Qismat ke Khail Niraale

Qismat ke Khail Niraale

Qismat ke Khail Niraale
اسلام وعلیکم کیا حال ہے آپ سب کا اُمید ہے آپ سب خیریت ہوں گے ۔

آج کی کہانی میں خوش آمدید

لائبہ کی ماں ٹیچر تھی۔ یہ تین بہنیں تھیں۔ ماں کا تعلق تدریس سے تھا، تبھی لڑکیوں کو بھی پڑھنے سے

رغبت تھی۔ دونوں بڑی بہنوں نے گریجویشن مکمل کر لی تو ان کی مناسب گھروں میں شادی ہو گئی ۔ اب

لائبہ اکیلی رہ گئی۔ ماں اپنی ملازمت پوری کر چکی تھی۔ ایک سال کے بعد ریٹائرڈ ہونے والی تھی۔ اسے

لائبہ کی فکر تھی۔ یہ ایک بھاری فریضہ تھا، جسے وہ جلد از جلد ادا کرنا چاہتی تھی تاہم اچھے رشتے یونہی نہیں

مل جاتے ، ان کے لئے کوشش کرنا پڑتی ہے۔ ملنے جلنے والوں نے کچھ رشتے بتائے ، لوگ دیکھنے بھی آئے

مگر لائبہ نے انکار کر دیا۔ اس نے ماں سے کہا کہ ابھی اس مسئلے کو مت چھیڑیئے ، پہلے مجھے سکون سے ایم

اے کر لینے دیں۔
بات دراصل یہ تھی کہ لائبہ کی ملاقات یونیورسٹی میں ایک امیر زادے سے ہو گئی تھی، جس کا نام خرم تھا

اور دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد خرم نے لائبہ سے شادی کی خواہش

ظاہر کی ۔ وہ بھی دل سے یہی چاہتی تھی لیکن دونوں کے والدین راضی نہ تھے بہر حال انہوں نے جوں

توں ماں باپ کو راضی کیا اور شادی ہو گئی۔ بد قسمتی کہ شادی کے بعد دونوں ایک دوسرے کی توقعات پر

پورے نہ اترے۔ پہلے تو کچھ سجھائی نہ دیا تھا، بعد میں عیب کھلے ، مزاجوں کا بھی فرق تھا۔ تمام عمر نوک

جھونک اور کھٹ پٹ میں گزر گئی۔ دونوں نے جیسے تیسے ، اپنے بچوں کی خاطر بھلی بری زندگی اکٹھے گزار

دی۔
رابعہ لائبہ خالہ کی بیٹی اور میری خالہ زاد تھی۔ اس کو ماں کی طرح پڑھنے کا شوق تھا۔ کالج کی بہترین طالبہ

مانی جاتی تھی۔ ایف ایس کی شاندار نمبروں سے کیا، میرٹ بنا چکی تھی لیکن میڈیکل کالج میں داخلہ نہ لیا۔

بڑی بہن ڈاکٹر تھی۔ رابعہ ڈاکٹر نہ بننا چاہتی تھی۔ بی ایس سی کرتے ہی اس کے کافی رشتے آئے۔ اس نے

کسی رشتے کو قبول نہ کیا۔ وہ اعلی تعلیم مکمل کرنا چاہتی تھی۔ یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہا۔ والدین نے شرط

رکھی کہ وہ صرف پڑھائی سے غرض رکھے گی اور شادی کے معاملے میں والدین کی پسند کو ترجیح دے گی۔

رابعہ کی امی ، لائبہ خالہ کو پسند کی شادی کا تجربہ ہو چکا تھا۔ رابعہ کے والدین ” لو میرج کر کے عمر بھر

پچھتاتے رہے تھے۔ ان کے خیال میں لو میرج کے بعد محبت کا جنازہ نکلتا ہے۔ مزاجوں کا اختلاف جو بعد

میں ظاہر ہوتا ہے وہ میاں بیوی کی زندگی میں نفرتوں کا جہنم کھول دیتا ہے۔

تبھی انہوں نے تہیہ کر لیا کہ بچوں کی شادیاں خود دیکھ بھال کر کریں گے اور ان کو لو میرج کے چکر میں نہ

پڑنے دیں گے۔ رابعہ نے والدین سے وعدہ کر لیا کہ ان چکروں میں پڑنے کی بجائے صرف تعلیم سے

واسطہ رکھے گی۔ اس کو یونیورسٹی جانے سے نہ روکا جائے۔ ایم ایس سی کا ایک سال خیریت سے گزر گیا مگر

ہونی ہو کر رہتی ہے۔ ایک دن رابعہ کی ملاقات نوید سے ہو گئی اور دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے

لگے۔ نوید اچھا لڑ کا تھا۔ سنجیدہ، شریف اور اعلیٰ خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اس کو رابعہ کی بد نامی بھی

مطلوب نہ تھی۔ اس نے اپنے والدین کو خط لکھا کہ وہ ایک لڑکی کو پسند کرتا ہے اور شادی کرنا چاہتا ہے۔

ماں باپ نے جواب دیا تعلیم مکمل کر لو پھر لڑکی اور اس کا خاندان بھی دیکھ لیں گے ۔ اچھے لوگ ہوئے تو

تمہاری خواہش کا ضرور احترام کریں گے لیکن رابعہ کے والدین تو لو میرج کا زخم کھا چکے تھے وہ نہیں مانے

انہوں نے لڑکے کو دیکھنا تو کیا اس کا نام تک سننا گوارا نہ کیا بلکہ بیٹی سے کہا تم اس وعدے کی پابند رہو جو تم

نے ہم سے کیا تھا کہ شادی اپنی نہیں ہماری پسند سے کرو گی۔

رزلٹ آگیا۔ خوش قسمتی سے نوید کو فورا ہی اچھی نوکری مل گئی کیونکہ اس کے ساتھ خاندانی اثر و رسوخ

تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ اچھی ملازمت ملنے کے بعد رابعہ ضرور اپنے والدین کو راضی کرلے گی مگر وہ ایسا نہ کر

سکی۔ ماں کو جب اس نے نوید کی ملازمت کے بارے میں بتایا تو وہ بولی۔ پسند کے یہ جذبات وقتی ہوتے

ہیں۔ اتنی جلد انسان انسان کو پرکھ نہیں سکتا کیونکہ آنکھوں پر جذبات کی پٹی بندھی ہوتی ہے۔ کل جب تم

کو اچھا شوہر ، اچھا گھر ملے گا تو تم نوید کو بھول جائو گی ، سو بہتر ہے کہ آج ہی بھلادو۔ تمہارے والد بھی نہیں

مانیں گے بلکہ نوید والے اگر رشتہ لینے آئے تو ڈر ہے کہ بے رخی سے بات کر کے ان کے دل کو ٹھیس

پہنچائیں گے ، اس لئے تم نوید کا خیال ذہن سے نکال دو۔

Qismat ke Khail Niraale

جب رابعہ نے دیکھا کہ کسی طرح گھر والے راضی نہیں ہور ہے تو اس نے نوید کو اپنی مجبوریاں بتا کر اس

سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور ماں باپ کا مان رکھ لیا۔ نوید کو اتنا صدمہ ہوا کہ وہ اچھی بھلی ملازمت چھوڑ کر

اپنے چچا کے پاس انگلینڈ چلا گیا۔ چھ ماہ بعد رابعہ کی شادی فہد سے ہو گئی۔ وہ کس دل سے دلہن بنی ، اس کا

دل ہی جانتا ہے۔ خیالوں میں اس کا محبوب بسا ہوا تھا۔ روح کا مالک نوید تھا اور جسم کا مالک فہد بن چکا تھا۔

شادی کو تین دن گزرے تھے کہ وہ ڈرائنگ روم ہیں گئی،وہاں دیوار پر نوید کی تصویر لگی دیکھی تو ٹھٹھک

گئی۔ کچھ دیر کے لئے تو اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ واقعی یہ تو نوید کی ہی تصویر تھی، جس کے ساتھ

یونیورسٹی میں اس نے ملاقاتوں کے پُر کیف لمحات گزارے تھے اور خیالوں میں کئی چاندنی راتوں کو صبح

کے سورج کے ساتھ ملا دیا تھا۔
بے شمار سندر سپنے دیکھے تھے ، جینے اور میرنے کی قسمیں کھائی تھیں۔ پھر جانے وہ کہاں غائب ہو گیا۔ ابھی

تو وہ کسی کے نام سے منسوب بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ مایوس ہو کر کسی اور ملک میں گم ہو گیا تھا۔ اس کے

بیرون ملک چلے جانے کے صرف چھ ماہ بعد وہ اس کے بڑے بھائی کی دلہن بن کر اس کے گھر آگئی۔ ایسی

آندھی چلی کہ گھر بھی چھوٹا اور شہر بھی۔ ابھی اس کا رزلٹ بھی نہیں آیا تھا کہ باپ نے شادی طے کر

دی۔ وہ کہتی رہ گئی کہ پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہوں لیکن اس کے والد نے کہہ دیا بس اتنی پڑھائی کافی ہے۔ جو

لڑ کا ہم نے رابعہ کے لئے پسند کیا ہے ، وہ بڑا آفیسر ہے۔ ہماری بیٹی شہزادیوں کی طرح راج کرے گی اور وہ

نہ چاہتے ہوئے بھی راج کرنے آگئی تھی۔

اس کے پاس نوید کی جتنی بھی تصویریں تھیں ، وہ سب اس نے جلا دی تھیں لیکن اس تصویر کا وہ کیا کرے

جو ڈرائنگ میں لگی ہوئی تھی۔ اختیار تو اپنی چیز پر ہوتا ہے پرائی پر نہیں۔ نوید نے ایک بار اس سے کہا تھا تم

مجھ سے جدا کبھی بھی ہو گی تو میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ وہ اپنی ضد کا پکا تھا۔ رابعہ اس سے جدا بھی ہو گئی

لیکن وہ ابھی تک نہ صرف اس کے ساتھ تھا بلکہ گھر میں بھی تھا۔ اس نے پلکوں کی چلمن اٹھائی اور ایک

مرتبہ پھر نوید کی تصویر کو دیکھنے لگی اور عالم فراموشی میں تصویر اٹھا کر اپنے دولہا سے پوچھا۔ یہ کس کی

تصویر ہے؟ یہ میر ا چھوٹا بھائی نوید ہے۔ کسی لڑکی کو چاہتا تھا، لڑکی کے والدین نے رشتہ دینے سے انکار کر

دیا اور لڑکی نے بھی والدین کا ساتھ دیتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیا تو وہ دلبر داشتہ ہو کر ملک سے باہر چلا

گیا۔ میری تمہاری شادی میں بھی اسی وجہ سے شرکت نہ کر سکا۔ میں نے فون پر کہا بھی کہ میری شادی تو

اٹینڈ کر لو مگر وہ نہیں آیا۔ اب آئے گا تو کان کھینچوں گا۔ وہ شوہر کی باتیں ایسے سنتی جیسے کوئی خواب میں

کسی کی باتیں سنتا ہو۔
اپنے ہی گھر میں دیوار پر دن رات لگی نوید کی تصویر دیکھ دیکھ کر ایک بار پھر اس کی یاد نے رابعہ کے دل کو

دبوچ لیا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ وہ جس گھر بیاہ کر جائے گی، وہ نوید کا ہو گا۔ اب اس گھر میں نوید کی

بھابی بن کر رہنا کتنا دشوار تھا۔ رابعہ ہر وقت پریشان رہنے لگی۔ سوچتی کسی روز نوید واپس آگیا تو کیا ہو گا،

میرا کیا بنے گا؟ کبھی نہ کبھی اس نے تو آنا ہی تھا اور اگر فہد کو شک ہو گیا تو وہ اپنے شوہر کی نظروں میں بھی

گر جائے گی۔ وہ انہی خیالوں میں گھری رہنے لگی۔ ایک روز وہ ڈرائنگ روم میں سجاوٹ کی چیزوں سے گرد جھاڑ رہی تھی کہ نوید کی تصویر کے پاس آئی اور اسے غور سے دیکھنے لگی۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں

مسکرارہا تھا۔ اس کو یاد آیا کہ ایک بار نوید کو رابعہ کی تقریر اتنی پسند آئی تھی کہ اس نے اپنا جیتا ہوا میڈل

گردن سے اُتار کر رابعہ کے گلے میں ڈال دیا تھا۔ رابعہ کو چپ سی لگ گئی۔ ایک دن فہد نے نوید کو خط

لکھا۔ اس نے لفافے میں اپنی اور رابعہ کی تصویر بھی رکھ دی۔ رابعہ نے لفافے سے وہ تصویر نکال لی۔ فہد

نے پوچھا۔ تم نے تصویر کیوں نکال لی ؟ وہ بولی۔ جب دیور صاحب گھر آئیں گے تو دیکھ لیں گے۔ مجھے غصہ

آتا ہے۔ آپ ہر وقت اس کی باتیں کیوں کرتے رہتے ہیں ؟ اس میں غصہ کرنے کی کیا بات ہے؟ وہ میر ا

چھوٹا بھائی ہے، مجھے پیارا ہے یہ تم کیوں میرے بھائی کے نام سے اس قدر وحشت کھاتی ہو؟ اس کی ساس

ماں جیسی تھی کہ اس کی اپنی کوئی بیٹی نہ تھی۔

وہ رابعہ کو ہی اپنی بیٹی سمجھتی تھی۔ ایک دن رابعہ اپنے کمرے میں تھی کہ کسی نے در پر دستک دی اور ایک

لفافہ اندر پھینک دیا۔ وہ کمرے سے باہر نکلی تو صحن میں لفافہ پڑا ہوا تھا۔ یہ خط لندن سے آیا تھا۔ لکھا تھا۔

ماں میں ابھی تک اس لڑکی کو نہیں بھولا، جس کا نام تک آپ نہیں جانتیں۔ وہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں

پڑھتی تھی۔ بہت اچھی لڑکی تھی مگر اب نام بتانے سے کیا فائدہ ! خدا جانے وہ اب کہاں ہو گی ؟ آپ کہتی

ہیں کہ کہیں میں نے لندن میں شادی تو نہیں کر لی۔ امی جان کوئی اس جیسی ملے گی تو شادی کروں گا نا !

رابعہ نے سوچا۔ اگر خط چھپا لوں یا پھاڑ دو تو کیا فرق پڑے گا۔ کیوں نا اماں کو دے دوں وہ بچاری روز بیٹے

کے خط کا انتظار کرتی ہیں۔

ان دنوں موبائل فون تو تھے نہیں۔ خط ہی آدھی ملاقات ہوا کرتے تھے پس اس نے خط ماں کو دے دیا۔

وہ بولیں۔ بیٹی رابعہ ! تم ہی پڑھ کر سنا دو۔ خط سن کر بولیں۔ پتا نہیں وہ کون لڑکی تھی ؟ کاش مجھے اس کا پتا

چل جائے تو میں اس کے ماں باپ کے پاس جا کر انہیں ہاتھ جوڑ کر منالوں اور اپنے بیٹے کے لئے خوشیاں

لے آئوں۔ رابعہ کھڑی سوچ رہی تھی کہ اگر ان کو پتا چل جائے کہ وہ بد نصیب میں ہوں تو شاید یہ میری

شکل بھی دیکھنا گوارا نہ کریں۔ اتنے میں فہد آ گیا۔ پوچھا۔ رابعہ تم کیوں ایسے کبھی کھڑی ہو ؟ کیا ہوا ہے ؟

شوہر کی بات پر وہ اور پریشان ہو گئی ، جیسے واقعی اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔ نوید کا خیال اب تو اس کی زندگی

کے لئے سوہان روح بن گیا تھا۔ خوف ایک تلوار کی طرح ہر وقت اس کے سر پر لٹکتی رہتی تھا۔ کچھ دن

بعد نوید کا دوسرا خط آ گیا۔ لکھا تھا، ماں ! اس لڑکی نے بے وفائی کی ، اب اس کی شادی ہو گئی ہے۔ اب آپ

کو کسی کے در پر لڑکی کے ماں باپ کو منانے نہیں جانا پڑے گا۔ اس کے بعد نوید کا کوئی خط نہ آیا۔ ایک دن

فہد نے سوچا کہ بہت دن ہو گئے ہیں۔ نوید نے اسے نہ تو دفتر میں فون کیا ہے اور نہ خط لکھا ہے۔ کیوں نہ

گھر پر فون لگوالوں۔ ماں نے کہا۔ فون لگوا کر کیا کرو گے۔ تم خود لندن کیوں نہیں چلے جاتے ؟ دیکھو تو

جاکر کہ وہ کس حال میں ہے۔ فون واپس آکر لگوا لینا۔

فہد نے ماں کے کہنے سے لندن جانے کی ٹھان لی۔ تب خانیوال ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔ اسلام آباد ابھی

آباد نہ ہوا تھا اور لندن جانے کے لئے کراچی سے فلائٹ لینی پڑتی تھی۔فہد نے رابعہ سے کہا۔ تم بھی چلو،

میں تمہارا پاسپورٹ بنوالیتا ہوں۔ تم بھی سیر کر لو گی۔ اس کو سمجھا بجھا کر لے آئیں گے ، پھر کسی اچھی لڑکی

سے اس کی شادی کرا دینا۔ رابعہ نے لندن جانے سے صاف انکار کر دیا۔ فہدا کیلا ہی بھائی کی خیر خبر لینے

چلا گیا لیکن پندرہ دن بعد وہ واپس آگیا کیونکہ نوید لندن سے کسی اور طرف نکل گیا تھا۔ فہد نے وہاں اس کا

پتا معلوم کرنے کی کوشش کی مگر پھر بہت مایوس اور اداس لوٹ آیا۔ کہنے لگا۔ اگر مجھے پتا چل جائے کہ

کس لڑکی کی خاطر میرے پیارے بھائی نے بن باس لیا ہے، تو میں اس لڑکی کو گولی مار دوں گا۔ اسی کی بے

وفائی کی وجہ سے میرا بھائی گھر بدر ہی نہیں ملک بھی چھوڑ کر چلا گیا۔ وہ مجھے لندن میں بھی نہیں ملا۔ رابعہ

نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا مگر اب اس کی یاد رابعہ کے دل میں اٹک کر رہ گئی تھی کہ گھر میں ہر

وقت اس کا ذ کر رہتا تھا۔
وہ اسے بھلانا چاہتی تھی اور اس کی ساس اور شوہر نوید نوید کرتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی تو وہ تنہائی میں

رونے لگتی تھی۔ دو سال سکون سے گزر گئے۔ اچانک ایک دن صبح صبح نوید گھر آگیا۔ ماں جی کی طبیعت

اچھی نہ تھی ، وہ اس کو یاد کر کر کے روتی رہتی تھیں۔ اچانک نوید کے آجانے سے تن مردہ میں جان پڑ گئی

اور ماں مرتے مرتے جی اٹھیں۔ فہد بھی بہت خوش تھا لیکن رابعہ بجھ گئی تھی اور نوید کی حالت تو ایسی

تھی، جیسے اپنے سامنے موت کا فرشتہ دیکھ لیتا ہے۔ فہد نے چھوٹے بھائی سے اپنی بیوی کا تعارف کرایا کہ یہ

ہمیں تمہاری بھا بھی رابعہ ! اب یہ تم پر جرمانہ کریں گی کہ تم ہماری شادی میں نہیں آئے۔ جرمانہ تو میں ادا

کر نہیں سکتا البتہ معافی مانگ سکتا ہوں۔ چھوٹے دیور ہو ، پائوں چھولو ! معافی مل جائے گی۔ یہ کہہ کر فہد

باہر جانے لگا کہ اماں نے اسے آواز دی، تبھی رابعہ کی طرف دیکھے بغیر نوید نے کہا۔ جس کی خاطر ہم نے

دنیا چھان ماری، پتا نہیں تھا کہ وہ دشمن تو اپنے گھر میں ہے۔ بات فہد کے کان میں بھی پڑ گئی۔ پوچھا، کیا کہا

نوید ؟ کچھ نہیں خود سے کہہ رہا تھا، ایک دوست کے بارے میں۔ اس کو پیار سے دشمن بلاتا ہوں، اس کے

پاس بھی جانا ہے پر ابھی، نہیں کل چلا جائوں گا۔ رابعہ کی تو سانس رک گئی تھی۔ خود سے خود کو چھپا رہی

تھی۔ صبح سے باور چی خانے ہیں گھس گئی کہ دیور کے لئے خود خاص اہتمام سے کھانا بنارہی ہے۔

Qismat ke Khail Niraale

یوں بھی اس کے سامنے نہ جانا چاہ رہی تھی کہ نوید کے چہرے پر تلخی دیکھ چکی تھی۔ ڈر تھا کسی وقت ایسی

بات زبان پر نہ لے آئے کہ جس کو فہد سن لے -ایک دن فہد آفس گیا ہوا تھا۔ ساس سورہی تھی ۔ نوید

اس کے کمرے میں آگیا۔ اس نے طنز یہ کہا۔ شادی کرنے کو کیا، تمہارے ماں باپ کو یہی گھر ملا تھا۔ دو چار

گھر چھوڑ کر کیا بیاہ نہیں کر سکتی تھیں ؟ رابعہ نے اسے سمجھانا چاہا کہ دیکھو نوید ! اس میں میرا کوئی قصور

نہیں۔ تم اگر چلے نہ گئے ہوتے تب بھی شاید پتا چل جاتا کہ میری شادی کس گھر میں ہو رہی ہے۔ اب میں

رابعہ نہیں تمہاری بھابی بن چکی ہوں۔ میر انہیں تو اپنے بھائی کا خیال کرو۔ آئندہ کبھی ایسی ویسی بات مت

کرنا جس سے کسی کو شبہ ہو کہ ہم ماضی میں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ جو ہونا تھا ہو چکا۔

اس کی دعا قبول ہو گئی۔ نوید یہاں کی بے کیف زندگی سے اکتا کر پھر سے انگلینڈ چلا گیا۔ اب تو اسے اس گھر

، جائیداد اور روپے پیسے سے بھی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ اس نے سبھی کچھ اپنے بھائی کو سونپ دیا۔ اس کے

جانے سے رابعہ نے سکون کا سانس لیا۔ اسی دوران خدا نے اس کو ایک بیٹے سے نواز دیا۔ یکے بعد دیگرے

وہ دو اور بچوں کی ماں بھی بنی۔ زندگی میں کچھ ہلچل کچھ ٹھہراو آ گیا۔ بچوں نے اس کو مصروف کر دیا تھا۔

نوید کی کبھی یاد آئی بھی تو اس نے کے خیال کو پرے جھٹک دیا۔ شکر کہ جاتے ہوئے وہ ڈرائنگ روم سے

اپنی تصویر بھی اتار کرلے گیا۔ یہ تصویر اسے ماضی کی یاد دلاتی تھی۔ وہ ماضی کو فراموش کر کے اپنے حال

میں گم ہو گئی۔
بارہ برس گزر گئے۔ اس کی ساس کا انتقال ہو گیا۔ اب وہی اسی گھر کی بلا شرکت غیر مالک تھی۔ اپنے شوہر

سے اس کو کوئی شکایت نہ تھی لیکن اپنے والدین سے وہ آج بھی اکھڑی اکھڑی رہتی تھی۔ اس کو ماں باپ

سے شکوہ تھا جنہوں نے خود تو اپنی پسند کی شادی رچائی تھی اور اس کو اس حق سے محروم کر کے ایک پر

خلش زندگی میں دھکیل دیا تھا۔

ایک دن وہ اپنی بیٹی کو ہوم ورک کر وار ہی تھی۔ اچانک گھنٹی بجی۔ اس نے  نارمل انداز سے فون اٹھایا مگر

فون کرنے والے کا لہجہ نارمل نہ تھا۔ فون فہد کے دفتر سے تھا۔ کوئی شخص  کہہ رہا تھا کہ کسی ڈاکو نے پولیس

مقابلے میں اُن کو گولی مار دی ہے۔ یہ سنتے ہی ریسیور ہاتھ سے چھوٹ گیا  اور وہ بے سدھ ہو کر جہاں کھڑی

تھی وہاں ہی فرش پر بیٹھ گئی۔

آج یہ عارضی سکون بھی راس نہ آیا، اس کے بچوں کا مستقبل تباہ ہو گیا تھا۔ بچے ابھی چھوٹے تھے ۔ بڑا بیٹا

دس برس کا تھا۔ اس کو پڑھانا لکھانا اور گھر کو بھی چلانا تھا۔ یہ کتنی بڑی ذمے داری تھی۔ جس کو اسے اکیلے

نباہنا تھا۔ ابھی وہ پچھلی محرومیوں کے چنگل سے نہ نکلی تھی کہ نئی محرومیوں کا جال اس پر آ گرا تھا۔ آج

شدت سے نوید یاد آیا۔ وہ ہوتا تو کم از کم اپنے بھائی کے بچوں کو تو سنبھال لیتا۔ نوید نے اپنے آفیسر بھائی کے

گولی لگنے کی خبر اخبار میں پڑھی تو اس کو بہت صدمہ ہوا۔ اب تک وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی زندگی کا کوئی

مقصد نہیں ہے لیکن اس نے جانا کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہے، کسی کو اس کی ضرورت ہے۔ اس کے

جیون کا ایک مقصد اپنے مرحوم بھائی کے تین بچوں کو پڑھانا لکھانا اور ان کا مستقبل بنانا ہے۔ وہ پہلی

فرصت میں جرمنی سے پاکستان آگیا۔ جس وقت وہ گھر میں داخل ہوار ابعہ انتہائی مایوس حالت میں گھر کی

دیوار سے لگی بیٹھی اپنی تنہائی اور کسمپری پر آنسو بہا رہی تھی۔

رشتہ دار عزیز تو سب چند دن رہ کر اور تسلی دے کر چلے گئے تھے ، بچے اسکول چلے جاتے تھے اور وہ گھر

میں اکیلی، پریشان ہوتی تھی۔ نوید کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ وہ توسوچ بھی نہ سکتی تھی کہ وہ

کبھی یوں اچانک لوٹ کر آجائے گا۔ اس نے بے یقینی سے نوید کو دیکھا اور رونے لگی۔ نوید نے روتی ہوئی

بھابھی کے سر پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھ دیا اور بولا۔ رابعہ اب سب غم بھلادو۔ تم تنہا نہیں ہو، میں تمہارے

دکھ سمیٹنے آیا ہوں۔ بھائی مجھے جان سے زیادہ عزیز تھے اور اب یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں ان کے بچوں کو

گلے لگا لوں۔ رابعہ کو لگا کر جیسے کسی نے اس گرتی دیوار کو تھام لیا ہو۔ اسے اپنا دکھ بہت ہی ہلکا محسوس ہوا۔

اس وقت فون گھر میں لگ چکا تھا۔ اس نے فون کر کے والدین کو اطلاع دی کہ بچوں کا چچا آ گیا ہے ، اب

آپ کو میرے بچوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تبھی بچے بھی اسکول سے آگئے ، نوید سے گلے

ملے۔ اس نے بھی انہیں پیار دیا۔

اب نوید گھر کا خرچہ دینے لگا۔ وہ بچوں کی تمام ضرورتوں کا خیال کرتا تھا لیکن رابعہ اس سے الگ تھلگ

رہتی تھی اجنبی بن کر ۔ نوید نے اسے ڈسٹرب نہ کیا اس کو اس کے حال میں رہنے دیا۔ وہ اس کی محبت

بھول کر اپنے مرحوم بھائی کے بچوں کی محبت ہیں کھو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ رابعہ بہت دکھی ہے ، وہ اپنے بچوں

کے باپ سے مانوس ہو چکی تھی اور اپنے شوہر کو کھو دینے پر نڈھال تھی۔ دو برس یونہی گزر گئے۔ زندگی

معمول کے مطابق گزر رہی تھی کہ ایک دن رابعہ کے ماں باپ ان کے گھر آئے اور نوید کا بچوں سے لاڈ

پیار دیکھا تو کہا۔ رابعہ اتنے اچھے لوگ تو بہت کم ہوتے ہیں ، ورنہ بھائی کے مرتے ہی لوگوں کو اس کی

جائیداد کی پڑ جاتی ہے۔ مرحوم بھائی کی بیوی اور بچوں کو کون پوچھتا ہے تمہارا دیور بہت اچھا انسان ہے۔

لگتا ہے اس کو روپے پیسے کا کوئی لالچ نہیں۔ رابعہ سے ضبط نہ ہو سکا۔ اس نے کہا۔

یہی وہ انسان ہے جو مجھے یو نیورسٹی میں ملا تھا اور ہم شادی کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے اس وقت تو اس کا نام

بھی سننا گوارا نہ کیا۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ سب لوگ دھو کے باز اور برے ہوں۔ والدین حیران رہ

گئے۔ انہوں نے نوید سے علیحدگی میں بات کی اور جب ان کو علم ہوا کہ اس نے ابھی تک شادی نہیں کی

ہے تو پھر رابعہ کو منایا کہ وہ اپنے بچوں کے چچا سے نکاح کرلے تا کہ یہ اجڑا ہوا گھر پھر سے بس جائے اور

بچوں کو بھی مستقل سہار امل جائے۔ رابعہ نہیں مانتی تھی۔ وہ دوسری شادی نہ کرنا چاہتی تھی لیکن اس

کے والدین اور بچوں نے اس کو منالیا۔ شاید اس کی تقدیر میں نوید کی جیون ساتھی بننا لکھا تھا۔ فہد کے

ساتھ گزاری ہوئی مختصر زندگی کی یاد لئے وہ ایک بار پھر اپنے ہی گھر میں دوبارہ بیاہی گئی۔ اس بار بھی اس

کے والدین ہی کا فیصلہ تھا لیکن اس نے اس فیصلے کو مجبور اقبول کیا، بچوں کی خاطر۔

اُمید ہے آپ کو آج کی کہانی پسند آئی ہوں گی ۔ آپ کہانی پڑھ کر لطف انداز ہوئے ہوں گے ۔

اپنا خیال رکھیں اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔اللہ خافظ

اگر آپ اور مزید کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔

بچوں کی کہانیاں ،     سبق آموز کہانیاں ،        نانی اماں کی کہانیاں

 

Share and Enjoy !

Shares

Leave a Comment