Lawaris Dulhan

Lawaris Dulhan

Lawaris Dulhan

آج کی کہانی دوستو ایک ایسی لاوارث لڑکی کی ہے جو گھر سے سکول گئی اور پھر کسی نے اغوا کر لی پھر کیسے اس

کی زندگی کانٹوں پہ چل کر آخر پھولوں کا باغ بھری یہ درد بھری کہانی آپ کو رلا کے رکھ دے گی اس

کہانی کو آخر تک ضرور دیکھیے گا کر لیں آب آئیے شروع کرتے ہیں۔

 آج کی یہ کہانی میری عمر ان دنوں چھ سات برس تھی والد سرکاری ملازم تھے اور سرکاری کالونی میں انہیں

گھر ملا ہوا تھا لڑکیوں کا سکول ذرا دور تھا تبھی مجھے مالی بابا سکول چھوڑنے جایا کرتے تھے مالی بابا کافی عمر

رسیدہ تھے اور محکمے کی طرف سے کالونی میں مالی لگے ہوئے تھے والد صاحب بابا کی عزت کرتے تھے یہ

بھی کالونی میں ہی ایک واٹر میں رہتے تھے بیوی بچے نہیں تھے اکیلے رہتے تھے امی انہیں روز کھانا دیا کرتی

تھی مالی بابا امی جان کو سودا سلف لا کر دیتے مجھے سکول چھوڑنے اور لانے کا بھی انہی کا ذمہ تھا ایک دن جب

سکول کی چھٹی ہو گئی اور میں گیٹ کے پاس ائی تو مجھے بابا نظر نہیں آئیےحالانکہ وہ روزانہ چھٹی سے پہلے ہی

آجاتے اور جو ہی میں گیٹ سے جھانکتی وہ سامنے کھڑے نظر آجاتی بابا کو ناپا کر پریشان ہو گئی گیٹ سے دو

قدم باہر نکلی ان دنوں اسکولوں کے گیٹ پر اتنے پہرے نہیں ہوتے تھے پرمندار تھا لہذا کارڈ بھی نہ

رکھے جاتے تھے ہمارا سکول سرکاری تھا جہاں عام لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے آتے تھے میں نے

ادھر ادھر دیکھا بابا کو ناپا کر چاہیے تھا کہ وہاں رک کر انتظار کرتی لیکن بچی تھی اور انتظار کی زحمت

برداشت نہ کر سکتی تھی۔

 تبھی ایک جگہ کھڑی نہ رہ سکی آہستہ آہستہ آگے چلنے لگی میں نے بستہ گلے میں ڈال رکھا تھا اور سکول فارم

میں تھی تبھی ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا بچے تمہیں کوئی لینے نہیں آیا روزانہ ہمارا مالی بابا آتا ہے آج

نہیں آیا میں نے جواب دیا کیا گھر کا راستہ معلوم ہے ہاں میں نے ویسے ہی کہہ دیا حالانکہ اکیلی کبھی سکول

نہیں آئی تھی تہم ایسا لگا جیسے پیدل چلتی گئی تو گھر پہنچ جاؤں دھوپ تیز تھی اور میں پسینے میں شرابور تھی

پیاس بھی لگ رہی تھی موسم گرم تھا ہوا میں تپش تھی لو چل رہی تھی اس آدمی نے میری کیفیت کو

بھانپ لیا اور کہا اج تمہارا مالی بابا نہیں آئے گا اس کو لو لگ گئی ہے اسے ہسپتال لے گئے تمہارے ابا نے مجھے

لینے بھیجا میں ان کے دفتر میں کام کرتا ہوں بابا مالی مجھے سائیکل پر لینے آیا کرتا تھا یہ شخص بھی سائیکل پر تھا ۔

پس میں گرمی سے گھبرائی ہوئی اس کی سائیکل پر بیٹھ گئی اس نے مجھ سے بستہ لیا جس پر میرا نام اور جماعت

لکھی ہوئی تھی میرا نام لے کر کہنے لگا تم جماعت اول میں پڑھتی ہو نا ہاں مگر آپ کو کیسے معلوم ہے

تمہارے آبا نے تمہارا نام اور جماعت  بتا دی تھی میں تمہیں لینے گیٹ پر پہنچنے والا تھا تم راستے میں مل گئی

اتنی باتیں کرنے کے بعد وہ مجھے لے کر کسی سمت  روانہ ہو گیا۔

 اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا اپنے حافظے پر بہت زور دیتی ہوں مگریادداشت جواب دے جاتی ہے جیسے

زمانے کی تکلیفوں نے ذہن سے ہر بات کے نشانات کھرچ کر مٹا دیے ہوں یہاں تک کہ اپنا نام اپنی پہچان

اپنے ماں باپ کا نام گلی محلہ سبھی کچھ بھول گئے مجھے اغوا کرنے والے جہاں لائے وہاں اور بھی بچے اور

بچیاں تھی میں نے ان پر ہوتے مظالم کو دیکھا تو یادداشت کھو بیٹھی ان مظالم کو میں تحریر نہیں کر سکتی ان کو

بیان کرنے کی تاب نہیں تصور سے ہاتھ پاؤں لرزنے لگتے ہی سانس رک جاتا ہے روح فنا ہونے لگتی ہے

نہیں نہیں ان کے بیان کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ان ظالموں کو چہرے تو موت کے

چہرے سے بھی زیادہ بھیانک اس قدر اندازہ کر سکتی ہوں کہ یہ لوگ بچوں کو اغوا کر کے فروخت کرتے

ہوں گے یا بھیک منگوانے کی غرض سے کوئی گروہ خریدتا ہوگا یا پھر کسی ایسے ہی مضموم مقصد کے لیے

معصوم بچوں کو اغوا کیا جاتا ہوگا ۔

ان بچوں سے مشقت ملی جاتی تھی دن رات کی بد سلوکی سے یہ بیچاری ہوش کھو چکے تھے اپنے نام پتے

بھول چکے تھے کچھ ایسے تھے جو گنگ ہو گئے تھے ان کی قوت گویائی ختم ہو چکی تھی میرے ذمے اس گھر

کی صفائی تھی جہاں ہمیں رکھا گیا تھا میرے ساتھ میرے برابر تو اور بھی لڑکیاں صفائی کرتی تھی کبھی

سوچ بھی رہ سکتی تھی کہ قدرت مہربان ہو جائے گی اور میں اس عقوبت خانے سے نکلنے میں کامیاب ہو

جاؤں گئی ایک دن  سردار نے مجھے اپنے ٹرک میں بٹھا لیا نہ جانے وہ مجھے کہاں لے جا رہا تھا رات کے وقت

ایک جگہ اس نے ایک ٹرک روکا اور اتر گیا سامنے ہوٹل تھا وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے غالبا وہ ان سے بات

کرنے گیا تھا وہ سمجھ رہا تھا کہ میں سورہی ہوں میں سوئی نہ تھی اس کے اترتے ہی اُٹھ بیٹھی مجھے چھلانگ

لگانے کا موقع مل گیا چھلانگ لگا کر میں جھاڑیوں میں گھس گئی اس وقت موت کے خوف سے زیادہ اس

آدمی سے بچ کر نکل جانے کا جذبہ مجھ پر غالب تھا۔

تھوڑی دیر ٹرک اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی  شاید اس نے گدڑی کی طرف دیکھا ہوگا جس میں میں لپٹی

ہوئی تھی وہ سمجھا ہوگا میں اسی میں لپٹی سو رہی ہوں بہرحال جب ٹرک کی آواز دور ہو گئی میں جھاڑیوں

سے نکلی اور سڑک کنارے بیٹھ گئی میری ٹانگ میں چوٹ لگی تھی حالانکہ میں سڑک کنارے پڑے ہوئے

کچی مٹی کے ڈھیر پر گری تھی پھر بھی یہ چھلانگ میرے ناتواں وجود اور طاقت سے بڑی تھی جو کہ ٹرک

کافی اونچا تھا رات کا اندھیرا تھا اور سڑک کا کنال ٹانگ میں درد تھا اور خوف کا دباؤ ذہن کو اپنی گرفت میں

ایک ائینی پنجے کی طرح جکڑے ہوئے تھا اللہ جانے کب تک میں یونہی قسم پرسی میں بیٹھی رہی۔

 کہ ایک کار میرے قریب ا کر رکی اس میں ایک عورت اور ایک آدمی موجود تھا جب ان کی گاڑی کی

روشنیاں مجھ پر پڑی انہوں نے گاڑی روکی اور بیٹری کی روشنی میں مجھے دیکھا میں کانپ رہی تھی میری

خستہ حالت پر عورت نے اٹھا کر گلے لگایا اور پوچھنے لگی تم کون ہو کہاں سے آئی ہو یہاں کیوں بیٹھی ہو

رات کے وقت یہ مسافر لوگ تھے اور لاہور جا رہے تھے میں ان کے کسی سوال کا جواب نہ دے سکے کانپتی

رہی تب عورت نے کہا یہ کھو گئی ہے اسے لے چلتے ہیں ایسا نہ ہو رات کے وقت اس معصوم کے ساتھ کوئی

حادثہ پیش آ جائے انہوں نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا میں بھی محفوظ ہونا چاہتی تھی جلد از جلد تبھی بلا

چوں چراغ بیٹھ گئی اور گاڑی میں بیٹھتے ہی اس عورت کے شانے سے لگ کر سو گئی انکھ کھلی تو میں ان

مہربان اجنبی لوگوں کے گھر میں تھی جو مجھ لاوارث کو سڑک سے اٹھا کر گھر لے آئے تھے اس مہربان

عورت کا نام عائشہ تھا اور اس کا شوہر زکا ایک وکیل جب میں نے متعدد بار پوچھنے کے باوجود ان کے کسی

سوال کا جواب نہ دیا تو یہ لوگ ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے انہوں نے سمجھا کہ میرا ذہنی توازن ٹھیک نہیں

ہے اس دن ڈاکٹر کے پاس لے جاتے رہے وہ میرے ساتھ شفقت سے پیش آتے اور آرام کا خیال رکھتے

تھے رفتہ رفتہ خوف دور ہونے لگا میں ان کے ساتھ باتیں کرنے لگی گویا انسانوں پر میرا اعتماد بحال ہونے لگا

اب میں نے جو کچھ یاد تھا بتا دیا مگر والدین کا نام اور پتہ پھر بھی نہ بتا سکے مجھے ماں کی صورت یاد آ جاتی تو میں

رونے لگتی سوچتی کہ میرے گم ہو جانے کے بعد نہ جانے انہیں کتنا صدمہ ہوا ہوگا اور جدائی کیسے ماں نے

 برداشت کی ہوگی۔

جن کے گھر میں رہتی تھی انہوں نے گرچہ  مجھے بیٹی بنا لیا تاہم ان کی اپنی دو بیٹیاں پہلے سے موجود تھیں

ایک کا نام ماہ رخ اور دوسری کا ماہ نور تھا یہ دونوں مجھ سے بڑی تھی ان کے والدین سمجھاتے کہ ماہ جبیں

کے ساتھ پیار سے پیش آیا کرو کیونکہ یہ تمہاری تیسری بہن ہے وہ کبھی پیار کرتی اور کبھی نظر انداز کرتی

تب ان کی ماں میری زیادہ دیکھ بھال میں لگ جاتی میں انہیں امی جان کہنے لگی تھی اور وکیل صاحب کو ابو کہا

ان کے گھر کا ماحول بہت پرسکون تھا اس پیار بھرے ماحول نے مجھے ایک نارمل انسان بنا دیا ۔

Lawaris Dulhan

اب میں پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لینے لگے مگر باوجود کوشش کے مجھے اپنے ماں باپ اور اپنا نام یاد نہ سکا پہلے

انہوں نے گھر پر پڑھائی کا انتظام کیا اور پھر مجھے سکول میں داخل کروا دیا جلد میں نے پانچویں کلاس کا

کورس ختم کر لیا اور چھٹی میں داخلہ مل گیا عائشہ امی نے بہت کوشش کی اور ان کی کوششوں کا پھل یہ ملا

کہ میں نے بالاخر مڈل پاس کر لیا وقت گزرتے دیر نہیں لگتی ابو کی دونوں بیٹیوں کی شادیاں ہو گئی ان دو

بچوں کی پیدائش کے بعد عائشہ امی کا  اپریشن ہوا تھا جس کے بعد ان کے یہاں پھر کوئی اولاد نہ ہوئی بچیاں

اپنے گھروں کی ہوئیں تو ان کو میری فکر ستانے لگی مگر قسمت نے میرا ساتھ نہ دیا وکیل صاحب اور ان کی

بیوی بذریعہ کار کسی کام سے اسلام اباد گئے واپسی پر ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا میں ان دونوں شفیق

ہستیوں سے یکلخت محروم ہو ان کے جہان سے چلے جانے کے بعد میرے حالات یکسر بدل گئے۔

 میں پھر سے لاوارث ہو گئی دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مجھے اپنے پاس رکھیں گی کیونکہ میرا کوئی نہ تھا

لیکن ان کی ساس کو یہ قبول نہ تھا وہ دونوں دو سگے بھائیوں سے بیاہی گئی تھی اور ایک گھر میں رہتی تھی

بڑی مشکل سے کچھ عرصے مجھے اپنے ہاں رکھنا قبول کیا پھر اپنے بیٹوں کو بھڑکانا شروع کر دیا تو وہ بھی کہنے

لگے کہ اس لاوارث لڑکی کا جلد از جلد کوئی بندوبست ہونا چاہیے اس دوران میری دونوں منہ بولی بہنوں

کے یہاں یکے بعد دیگرے بچوں بچوں کے ولادت ہوئی تو میں نے دن رات ان کی خدمت کر کے اپنی

جگہ ان کے گھر میں بنا لے تب ان کی ساس نے جو چچی بھی لگتی تھی میرا گھر میں رہنا قبول کر لیا مگر وہ مجھے

نوکرانی سے زیادہ حیثیت دینے پر تیار نہ تھی۔

 میں تو پہلے ہی نصیب و جلی تھی برداشت کرتی رہی بہنوں نے بچوں کی لائن لگا دی اور میں ان کی آیا بن گئی

کسی کو ابھی یہ خیال تک نہ آتا کہ اس کی شادی کی عمر ہے اسے بھی اپنا گھر بسانا ہے شاید وہ میری شادی کے

بارے میں سوچنا ہی نہ چاہتی تھی کہ پھر مجھ سے بے مول باندھی ان کو کہاں سے ملتی جبکہ میرے ذہن

میں خواب جاگ رہے تھے اپنا گھر ہو ایک پیار کرنے والا جیون ساتھی ہو ہر لڑکی کی یہ خواہش ہوتی ہے اور

یہ خواہش فطری ہوتی ہے وقت گزرتا رہا اور میں اپنا مدعا کسی کو نہ بتا سکی ایک وقت ایسا آیا کہ میں نے اپنے

بارے میں خود سوچنا شروع کر دیا مجھے نہیں معلوم محبت کیا بلا ہوتی ہے اس کے چرچے زمانے میں تھے ہر

جگہ محبت محبت کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا فلموں میں رسالوں میں یہی پڑھتی تھی کہ محبت سے زندگی ہے نہیں

جانتی تھی کہ محبت خوشیوں کی موت کا بھی دوسرا نام ہے۔

 ایک روز اپنی بھانجی کو سکول سے لینے جا رہی تھی کہ راستے میں ایک نوجوان ملا وہ اپنی بھتیجی کو سکول سے

لینے آیا تھا دونوں بچیاں ایک ہی سکول میں پڑھتی تھی ہم ایک راستے کے مسافر تھے سو آگے پیچھے چل

رہے تھے اگلے روز بھی یہی ہوا اور اس کے بعد ایسا ہی ہوتا رہا میرے اور اس نوجوان کے دل میں ایک

خیال نے جنم لیا کہ ہمیں ایک دوسرے سے ہم کلام ہونا چاہیے تہم جرات نہ اس میں تھی اور نہ مجھ میں

ایک دن چند آوارہ لڑکے میری راہ میں اگئے مجھ پر آوازیں کسنے لگے گھبرا کر تیز تیز چلی جب اس نوجوان

نے مجھے گھبراہٹ میں دیکھا تو وہ بھی تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا میرے برابر ا پہنچا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا

نوجوان مجھ سے ہم کلام ہوا برا مت ماننا ان اوارہ لڑکوں کے ارادے کو بھانپ کر تمہارے قریب آگیا اچھا

کیا میرے منہ سے بے اختیار نکلا میں واقعی ان سے ڈر رہی ہوں ڈرنے کی ضرورت نہیں بے خوف ہو جاؤ

میں ساتھ ہوں جب وہ لڑکے ذرا قریب آگئے تو اس خیر خواہ نے انہیں ڈانٹا کیا بات ہے تم لوگ ادھر

کیوں ائے ہو دوبارہ دیکھا تو جان سے مار دوں گا وہ ہنسنے لگے لگتا تو ایسا ہے جیسے یہ اس کی بیوی ہو ہاں بیوی

ہے میری پھر تم سے مطلب ہم سیر سپاٹے کو اس دھوپ میں نہیں نکلے اپنی بچیوں کو سکول سے لینے جا

رہے ہیں آئی سمجھ ٹھیک ہے ہم بھی دیکھتے ہیں کہ واپس یہاں سے گزرتے ہو یہ آگے کسی ریسٹورنٹ میں

چائے پینے نکل جاتے ہو یہ کہہ کر وہ ادھر ادھر ہو گئے میں پہلے ہی ہر شے سے ڈرتی تھی میں تو اپنے سائے

تک سے ڈرتی تھی میں اس کے ساتھ سکول تک چلتی رہی اور جب دونوں بچیاں باہر اگئی ہم دونوں انہیں

ہمراہ لے کر واپس گھر کو پلٹے اور یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جہاں وہ لڑکے ملے تھے واپسی میں دوبارہ وہاں

موجود تھے یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم نے جھوٹ کہا تھا یا سچ بچیوں کو ساتھ دیکھا تو وہ نو تو 11 ہو گئے لیکن ہم

دونوں کو ایک اندھے کے رشتے میں باندھ گئے۔

 اگلے دن دل نے ارزو کی وہ مل جائے اور وہ مل گیا دونوں ملتا اسے خرچہ تھا کہ وہ لڑکے دوبارہ کہیں نہ مجھے

پریشان کرے اس کے بعد یہ روز کا معمول ہو گیا کہ جب میں گھر سے نکلتی کچھ آگے جا کر وہ دکھائی دے

جاتا اور ساتھ ساتھ چلنے لگتا سوچا کیا خبر کب میری بہن میری جگہ کسی اور کو بچی کو لینے سکول بھیجنا شروع

کر دے تب میں ہمیشہ کے لیے اس مہربان انسان کو کھودو جو قسمت سے مل گیا تھا اور میرے دل میں بس

گیا تھا ایک صبح کو سکول پہنچا کر واپسی میں میں نے اس سے اس کا نام وغیرہ پوچھا اس نے کہا تم نے میرے

دل کی بات کہہ دی یہی سوچتا تھا کہ بچھڑ جانے سے پہلے تم سے یہ پوچھ لو کہ تمہارا نام کیا ہے اور کہاں

رہتی ہے کیا شادی شدہ ہو اور یہ بچی تمہاری کیا لگتی ہے میں نے بتا دیا کہ ایک لاوارث کھوئی ہوئی لڑکی

ہوں جس سے بچپن میں سکول سے واپسی پر چھٹی کے وقت اغوا کر لیا گیا تھا اب اصل نام پتہ گل کر چکی

ہوں الغرض اس کو تمام احوال مختصرا بتا دیا۔

 وہ بہت متاثر ہوا وہ بولا کیا مجھ سے شادی کرو گی میں بھی اپنے بڑے بھائی کے پاس رہتا ہوں اور شام کو ان

کا بزنس سنبھالتا ہوں صبح وہ دکان پر جاتے ہیں اور شام کو گھر ا کر آرام کرتے ہیں اس نے اپنا نام اسد بتایا

کہنے لگا کہ والدہ حیات ہیں وہ کہو تو انہیں اپنی بھابی کے ہمراہ رشتے کے لیے تمہارے گھر بھیجو اس سے پہلے

کہ کسی وجہ سے ہمارا ملنا ختم ہو جائے ہاں ضرور مجھے بھی اپنا گھر اپنی جنت چاہیے میں بھی یہی سوچتی ہوں

کل بہنوئی نے کوئی اور ملازمہ یا ڈرائیور وغیرہ رکھ لیا اور میں گھر میں قید ہو گئی وہ اپ سے کیوں کر مل پاؤں

گی اسد نے اپنی والدہ اور بھائی بھابھی سے میرا تذکرہ کیا وہ میرا رشتہ طلب کرنے پر راضی ہو گئے اور اس کی

والدہ کے ہمراہ بھابھی مجھے دیکھنے ائی میری بہنوں سے مت دعا بیان کیا تو وہ ناک منہ چڑھانے لگی ان کو یہ

کہہ کر ٹکا سا جواب دے دیا تو دوبارہ آنے کی زحمت گوارا نہ کرے ہم نہیں جانتے اپ کون لوگ ہیں

ہمارے شوہر ماہ جبین کا رشتہ اپنے رشتہ داروں میں تلاش کر رہے ہیں قرض کہ ان خود غرض منہ بولی

بہنوں نے منہ بولی ہونے کا بھی لحاظ نہ کیا انہیں چائے پانی کا بھی نہ پوچھا رکھائی سے پیش ائی اسد کی والدہ

آزردہ  ہو کر چلی گئی۔

 انہوں نے اسد کو گھر جا کر پورا بھلا کہا گرا چلتی لاوارث پر تم نے بھروسہ کر لیا اور ہمارے دل میں بھی اس

کے لیے ہمدردی کے جذبات ابھارے خونوں کی وہ لوگ اس لائق نہیں کہ ان کے گھر سے ہم اس بچی کو

بیاہ کر لے آئیں نہایت بد اخلاق اور بدتمیز ہیں وہ عورتیں جن کے گھر  ماہ جبیں رہتی ہے وہ ہرگز اس کا رشتہ

کہیں نہ کریں گی تو ماہ جبیں کا خیال دل سے نکال دو وہ یہ سن کر بے حد دل گرفتار ہوا مجھے بتا دیا کہ والدہ

بہت برہم ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اس کی نام نہاد بہنیں اس کی شادی نہ کریں۔

 اگر تمہیں وہ اتنی ہی پسند ہے تو بگا کر لانا پڑے گا اور شریفوں میں یہ طریقہ نہایت ناپسندیدہ ہے ایسا کرنے

کی ہم تمہیں اجازت نہ دیں گے یہ لڑکی جہاں ہے اسے وہاں ہی رہنے دو اس کے بعد اسد مجھے نظر نہ آیا

البتہ اس کی جگہ اس کا چھوٹا بھائی بچی  سکول سے لینے آنے لگا میں اتنی ناسمجھتی کہ اسے اس کا گھر بھی دیکھنے کو

نہ کہہ سکی تھی کہ اس نے راستہ بدل لیا غالبا اس کے گھر والوں نے میری بہنوں کے رویے سے توہین

محسوس کی تو وہ بیزار ہو گیا یہ سب کچھ اس قدر جلد ہوا کہ مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہ ملا اب دل میں

ایک خلش ایک کسک تھی جو چائنہ لینے دیتی تھی بہنوں اسلام اباد سے تبادلہ کرا کر آگئے گاڑی ڈرائیور بھی

مہیا ہو گئی اور اب بہن خود بچی کو لینے جانے لگی۔

 میں گھر میں قید ہو گئی گزرتا گیا ایک روز میرے دونوں بہنوئی اور بہنوں نے بتایا کہ وہ بیرون ملک جا رہے

ہیں ساس ان کی وفات پا چکی تھی مجھے انہوں نے اپنی ایک رشتے کی نند کو بخش دیا کیونکہ گھر وہ فی الحال بند

کر کے جا رہے تھے یہ اچانک تبدیلی میرے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی حیران پریشان کہ ابنائے گھر

میں نئے لوگوں کے ساتھ رہنا ہے جو میرے کچھ نہیں لگتے تھے ابو اور عائشہ امی کی نسبت سے ایک نام نہاد

رشتہ جو ابھی تک چل رہا تھا وہ بھی خلاؤں میں گم ہوتا نظر آنے لگا کوئی اور چارہ نہ تھا جو بھی یہ لوگ میری

قسمت کا فیصلہ کرتے ماننا پڑتا دونوں بہنوں نے تسلی دی کہ ہم کچھ مدت وہاں رہ کر واپس آجائیں گے تم

فکر مت کرو سلیمہ باجی بھی تمہارا خیال رکھیں گے وہ بہت اچھی اور رحم دل عورت ہے بے شک سلیمہ باجی

بہت اچھی اور رحم دل تھی۔

 لیکن ان کی بہو نہایت سنگلدل اور سفاک عورت تھی اس کے دل میں عجب قسم کے خدشات رہتے تھے

کہ کوئی خوبصورت لڑکی میرے شوہر کے دل کو نہ بھا جائے وہ مجھ پر کڑی نگرانی رکھتی اور بد سلوکی کرتی

تھی اس کی نگاہیں ہر دم میرے گرد پہرہ دیتیں اس عورت نے میرا ہی نہیں خود اپنا بھی سکون خراب کر

کے رکھ دیا۔

 وہ نام نہادبہنیں ماہ نور اور ماہ رخ پھر اچھی تھی کم از کم مجھ پر شک نہ کرتی تھیں یہ عجب قسم کی عورت تھی

ہر وقت کی اہانت سے دل گھبرایا رہتا دعا کرتی کہ میری بہنیں جلد لا اٹھائیں لیکن وہ نہ لوٹی اور تین  برس

اذیت میں گزر گئے باجی سلیمہ بتاتی تھی کہ وہ چار سال کی مدت پوری ہو جانے کے بعد لوٹیں گی اس اسنا

میں بادی سلیمہ بیمار پڑ گئی میں نے ان کی خوب خدمت کی وہ مجھے دعائیں دیتی کہتی تھی اللہ مجھے صحت دے

تیری شادی کر دوں گی اب جی جان سے تیرے لیے کوئی اچھا رشتہ دیکھوں گی ان کی زندگی کے دن گنے جا

چکے تھے اللہ نے مہلت نہ دی وہ وفات پا گئی اور میں ایک بار پھر بے اسرا ہو گئی اب ان کی بہو مدیحہ نے

خوب پنجے نکال لیے ساس کے ڈر سے جو ذرا دبکی ہوئی نظر آتی وہ ڈر جاتا رہا تھا اب انہوں نے بات بات پر

مجھے ذلیل کرنا شروع کر دیا کہتی کہ کہاں تک تمہاری نگرانی کر اب تمہیں دارالامان بھجوانا پڑے گا تم

لاوارثوں کا یہی ٹھکانہ ہے۔

 ان باتوں سے ایک روز میں اتنی دل شکستہ ہوئی کہ رونے بیٹھ گئی اتفاق سے ان کی پڑوسن اگئی در میں نے ہی

کھولا انہوں نے میری بھیکی آنکھوں کی طرف دیکھا اور سارا معاملہ سمجھ گئے ہم انہیں خالہ جی کہتے تھے وہ

میرا بیشتر احوال جانتی تھی ان سے کہا معلوم ہے کہ مدیحہ تم کو کتنا تنگ رکھتی ہے ایسا کرو میرے پاس آ جاؤ

کہ جب یہ سو رہی میں تمہیں ایک نیک گھرانے میں بھجوا دوں گی قبضے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کوئی لڑکی

چاہیے عرفہ میری بہن بنی ہوئی ہے اور ان کے بہو بچے کو جنم دینے والی ہے عارفہ دل کی مریضہ ہے اور بہو

بچے کی دیکھ بھال سے قاصر ہے اس وقت میں اس قدر رنجیدہ تھی کہ خالہ جی کو بات کو گرہ میں باندھ لیا

اگلے دن جب مدیحہ ہو گئی میں چپکے سے در کھول کر ان کے گھر چلی گئی انہوں نے مجھے برقہ پہنا دیا اور

جلدی سے اپنی گاڑی میں بٹھا کر عارفہ کے گھر لے گئی پہلے تو میں پہچانی نہیں پھر یاد آیا یہ اسد کی امی جو میرا

رشتہ طلب کرنے آئی تھی میری انکھوں سی آنسو چھلک پڑے انہوں نے بھی اگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا

آواز دی اونچے مل پایا دل بیٹھ گیا سمجھی کہ یہ اسد کی بیوی ہوگی مگر بعد میں علم ہوا کہ یہ چھوٹے بیٹے کی بہو

ہے اور اسد نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے اسد نے مجھے اپنے گھر میں دیکھا تو حیرت میں ڈوب گیا اس

بات پر اور دکھی ہو گیا کہ میں لاوارث تھی اور لاوارث ہی رہ گئی اور اب اس کے گھر بطور ایک ملازمہ لائی

گئی وہ اس دم خاموش ہو گیا لیکن بعد میں اس نے ماں سے کہاماہ جبیں کا عندیہ لو اگر یہ راضی ہو تو میں اس

کے ساتھ شادی کے لیے تیار ہوں اس کی والدہ نے یہ بات مجھے نہ بتائی کیونکہ وہ کچھ دن مجھے اپنے پاس

رکھ کر میرے دور اتوار دیکھنا اور پرکھنا چاہتی تھی سال بھر تک انہوں نے میری اسد کے ساتھ شادی کا نام

نہ لیا یہاں تک کہ ایک روز خالہ جی آگئی اور بتایا کہ مدیحہ تمہارے چلے جانے سے بہت سکون میں ہے اور

سلیمہ مرحومہ ہو چکی ہے اس لیے تمہاری گمشدگی کا کسی کو ملال نہیں ہے ہاں مگر اب تمہاری دونوں بہنیں

چار برس کی مدت پوری کر کے واپس آگئی ہے مدیحہ کے پاس تمہارے بارے میں معلوم کرنے آئی تھی

اس نے یہی بتایا کہ تم گھر سے بھاگ گئی ہو وہ دونوں بے حد پریشان ہوئی ہے اس روز میں بھی اتفاق سے

وہاں موجود تھی جب وہ آئی تھی کہتی تھی خالہ جی ہمیں یقین نہیں آتا کہ ماہجبی خود سے بھاگی ہوگی یقینا اس

کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے میں نے ان سے سرگوشی میں کہا تھا کہ اصل احوال جاننا چاہتی ہو تو میری

طرف آ جانا وہ متیحہ کے گھر سے میرے گھر آگئی میں نے بتا دیا کہ تمہیں میں نے اپنی سہیلی کے گھر پہنچا دیا

تھا کہ مدیحہ کسی سینٹر پہنچانے کا ارادہ رکھتی تھی۔

Lawaris Dulhan

وہ شکی عورت ہے اس کے ساتھ کسی کا رہنا بہت مشکل ہے ماہ نور اور ماہ رخ  دونوں تم سے ملنے آنا چاہتی ہیں

اب تم بتاؤ کہ ان سے کیا کہوں میں نے کہا میں عارفہ آنٹی کے سامنے انہیں نہیں لانا چاہتی مگر ابو اور عائشہ

آنٹی کا خیال اتا ہے جو میرے محسن تھے اور یہ ان کی بیٹیاں ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں میں خود

انہیں سمجھا دیتی ہوں تم مجھ پر چھوڑ دو خالہ جی نے دلاسہ دیا اور پھر میرے جذبات کے عین مطابق کر کے

بھی دکھایا یعنی ادھر عارفہ انٹی کو سمجھایا اور ادھر میری بہنوں کو اور یوں انہوں نے میری اور اسد کی شادی

کی راہ ہموار کر دی۔

 اللہ کو یہی منظور تھا کہ ہماری شادی ہو گئی ہماری لگن سچی تھی کہ بچھڑ جانے کے بعد کبھی اسد کے دل سے

میرا خیال گیا اور نہ میں ہی اسے بھلا سکی تھی اللہ تعالی کی طرف سے معجزہ ہو گیا کہ ہم پھر مل گئے مجھے اسد

کے گھر پناہ ملی اور یہ پناہ مضبوط اور دائمی تھی یعنی زندگی بھر کے لیے اسد کے گھر کی چھت تلے مجھے رہنا اور

سکون کے بقیہ دن گزارنے کا موقع بالاخر اللہ تعالی نے دے دیا لیکن اس خوشی کو میرے حقیقی ماں باپ

دیکھ سکے اور نہ وہ جنہوں نے مجھے ایک رات سڑک سے لاوارث بچے کی صورت میں اٹھایا اور اپنے گھر لا

کر پناہ دی  پیار دیا اور پروان چڑھایا ان کا بھی مجھ پر بہت حق تھا۔

 مگر وہ اس دنیا سے ایسی دنیا میں جا چکے تھے کہ جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا مجھے بہنوں نے عزت سے

رخصت کیا اور میں اسد کی دلہن بن گئی بیرون ملک رہ کر ان کی تنگ خیالات میں بہت وسعت  آ چکی تھی

وہ مجھے ایک باندی کی صورت میں نہیں بلکہ ایک ہستے بستے انسان کی صورت میں زندگی بسر کرتے دیکھنا

چاہتی تھی جس وقت میری اسد سے شادی ہوئی میری عمر تقریبا 40 کی ہونے والی تھی اللہ نے کرم کیا پھر

بھی اولاد کی نعمت سے نواز دیا ہمارے تین بچے ہیں اور میں خوش و خرم اسد کے ہمراہ زندگی گزار رہی ہوں

۔

آج زندگی میں خوشیوں کی کمی نہیں پھر بھی میری خوشیاں ادھوری کیونکہ حقیقی ماں باپ بہن بھائی رشتے

دار کبھی نہیں مل سکیں گے نہ جانے وہ کہاں ہیں کیسے ہیں زندہ ہیں یا نہیں اور ایسے کتنے ہی سوالات ہیں جو

کبھی کبھی مجھے اس قدر پریشان کر دیتے ہیں راتوں کی نیند اُڑ جاتی پھر خود کو یہ سوچ کر پرسکون کر لیتی کہ

ماں باپ بہن بھائی نہ مل سکے تو کیا ہوا اللہ نے کتنا بڑا کرم کیا کہ اسد کے گھرانے جیسا نیک گھرانہ دیا اور اسد

جیسا نیک دل شوہر آتا  کیا ہمیں جدا کر کے دوبارہ ملا دیا اولاد دی خوشیاں دے دی ورنہ مجھ جیسی لاوارث

لڑکیاں تو زمانے کی ٹھوکروں میں خاک کر دی جاتی ٹھیک منگوائی جاتی ہے ان کو فروخت کیا جاتا ہے اور

اس سے آگے سوچتے ہوئے دل لرز جاتا ہے تو پھر کیوں نہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے جو نہ ملا وہ تقدیر میں

نہیں تھا جو مل گیا وہ قسمت میں لکھا گیا تھا ۔

بس اسی کے ساتھ گزرتی ہےتو آسان لگتی ہے ورنہ ماضی میں میری زندگی کے دن جس طرح گزرے

ہیں یاد کر کے سوائے آنسو کے اور کچھ نہیں ملتا تو دوستو لاوارث لڑکی کی یہ درد بھری کہانی سن کر آپ کی

انکھوں میں بھی آنسو آئے نہ وہ پڑا اللہ کسی بیٹی کو ایسا دکھ نہ آمین کیسی لگی آج کی کہانی کمنٹ باکس میں

ضرور بتائیں مزید ایسی کہانیاں پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزیٹ کریں اللہ حافظ

کہانی پڑھنے کا بہت شکریہ۔

اپنا خیال رکھیں اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔اللہ خافظ۔

اگر آپ اور مزید کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔

بچوں کی کہانیاں ،     سبق آموز کہانیاں ،        نانی اماں کی کہانیاں

Share and Enjoy !

Shares

Leave a Comment