Malik e Room ka tajir aur shehzadi episode 1

Malik e Room ka tajir aur shehzadi episode 1

Malik e Room ka tajir

اسلام وعلیکم کیا حال ہے آپ سب کا اُمید ہے آپ سب ٹھک ہوں گے ۔

نانی اماں کی کہانیوں میں آپ سب کو خوش امدید

آج کی نانی اماں کی کہانی ہے کہ ملک روم کا تاجر اور شہزادی افشین۔

 کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ملک روم پر ایک رحم دل بادشاہ حکومت کرتا تھا بادشاہ بڑا انصاف پسند نیک

سیرت اور بہادر تھا بادشاہ کی ایک ہی بیٹی تھی جس کا نام شہزادی افشین تھا شہزادی افشین بے حد

خوبصورت اور ذہین تھی بادشاہ اور ملکہ اُسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے شہزادی افشین کے محل میں ایک بہت

بڑا باغ تھا جس میں دور دور سے منگوائے نایاب پودے  تھے شہزادی ہر شام کو اپنی کنیزوں کے ساتھ باغ

کی سیر کرتی اور رنگ برنگ کی تتلیوں سے کھیلتی ایک شام کو شہزادی حسب معمول اپنے باغ میں کھیل

رہی تھی اور تتلیاں پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے دوڑ رہی تھی تتلیاں کبھی اُس پھول پر جا بیٹھتی تو کبھی کسی

اور پھول پر جا کر بیٹھتی۔

اتفاق کی بات ہے کہ ملک کو کاف کے بادشاہ جن کا پی ٹو بیٹا تخت پر بیٹھا آسمان کی سیر کر رہا تھا اس کا تخت جو

ایک بڑے اژدھے کی شکل کا تھا چار خوفناک دیو اٹھائے ہوئے تھے پیٹو جن کا تخت بادلوں کے اوپر اڑ رہا تھا

بیٹو جن نے ایک تلسمی عینک لگا رکھی تھی جس کی وجہ سے اُسے ہر چیز بالکل صاف نظر ارہی تھی۔

 پیٹو جن کی جب نظر شہزادی افشین پر پڑی تو وہ اس کی خوبصورتی دیکھ کر تنگ رہ گیا اس نے اسی وقت اپنے

غلام دیو کو تخت باغ میں اتارنے کا حکم دیا تخت نیچے آیا تو کنیز شور مچاتی بھاگ گئی شہزادی افشین تو غش کھا

کر گر پڑی پیٹو جن نے اُسے اٹھا کر اپنے تخت پر ڈالا اور بولا میں اس خوبصورت لڑکی کو اپنی ملکہ بناؤں گا چلو

اب واپس کوکاف چلو دیو یہ سنتے ہی تخت کندھوں پر اٹھائے کو کاف کی طرف روانہ ہو گئے۔

 ادھر کنیز دہائی دیتی ملکہ اور بادشاہ کے پاس پہنچے انہوں نے سب کچھ بتایا ملکہ تو ہائے میری بچی کہہ کر وہیں

پہ گر پڑی اور بے ہوش ہو گئی بادشاہ گھبراہٹ میں ننگے پاؤں باغ کی طرف بھاگا مگر اب وہاں کیا تھا کچھ بھی

نہیں شہزادی افشین کو تو پیٹو جن اٹھا کر لے گیا تھا پوری سلطنت میں کہرام مچ گیا جس نے سنا آنسو بہانے لگا

بادشاہ نے شاہی نجومی اور وزیراعظم سے مشورے کے بعد اعلان کرا دیا کہ جو شخص شہزادی افشین کو

کوکاف کے جن کی قید سے ازاد کرا کر لائے گا وہی تخت و تاج کا وارث ہوگا اس اعلان کو سنتے ہی بہت سے

منچلے شہزادے اور نوجوان اپنے گھروں سے نکل پڑے مگر کسی کو بھی کوکاف کا راستہ نہ معلوم تھا ادھر ادھر

بھٹک کر ناکام لوٹ آئے۔

Malik e Room ka tajir

 ملک روم کے ایک گاؤں میں ایک نوجوان تاجر عثمان بھی رہتا تھا اس نے جب یہ اعلان سنا تو سوچا کہ اُس

قسمت آزمانی چاہیے شاید اللہ میری مدد کرے اور میں شہزادی کو جن کی قید سے چھڑالو یہ سوچ کر عثمان

نے سامان سفر باندھا اور گھوڑے پر سوار ہو کر مشرق کی طرف روانہ ہو گیا۔

 دوپہر کے وقت عثمان ایک جنگل میں پہنچا اور ایک گھنے درخت کے نیچے لیٹ کر سستانے لگا ابھی چند منٹ

ہی گزرے تھے کہ چوں چوں کی درد بھری آواز نے اسے چونکا دیا اس نے نگاح اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہے

درخت کی ایک شاخ پر بیٹھی چڑیا کے گرد ایک خطرناک کالا سانپ لپٹا ہوا ہے اور اسے ڈسنا ہی چاہتا ہے

تاجر عثمان کو چڑیا پر بڑا رحم آیا مگر مسئلہ یہ تھا کہ چڑیا کو بچایا کس طرح جائے جتنی دیر میں وہ درخت پر

چڑھتا سانپ نے چڑیا کو ڈس لینا تھا سوچتے سوچتے عثمان کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی اس نے جلدی

سے گھوڑے کی سیر سے لٹکتے ڈھال اُتاری ڈھال شیشے کی طرح چمکدار تھی عثمان نے ڈھال کو زمین پر اس

طرح رکھا کہ اس کا رخ درخت پر بیٹھے سانپ کی طرف ہو گیا سانپ نے جب چمکتی ڈھال میں اپنا عکس

دیکھا تو سمجھا کوئی اور سانپ آ گیا ہے وہ بڑے غضب ناک انداز میں پھن پھیلا کر پھنکارنے لگا تاجر عثمان

نے بڑی تیزی سے کمان میں تیر چوڑا اور اللہ کا نام لے کر چھوڑ دیا سنسناتا ہوا تیر سیدھا سانپ کے بھر میں

لگا اور سانپ تڑپ کر مر گیا۔

 چڑیا بچ گئی اور پھر سے اڑ کر تاجر کے سامنے آ گئی تھی مگر یہ کیا عثمان کے سامنے تو ایک حسین پری مسکرا

رہی تھی پری نے کہا اے ادم زاد تمہارا بہت بہت شکریہ تم نے میری جان بچائی میں پریوں کی ملکہ کی

خاص کنیز ہوں آج چڑیا بن کر سیر کو نکل کر اس سانپ کے ہتھے چڑھ گئی اگر تم نہ آتے تو اس سانپ  نے

مجھے مار ڈالنا تھا عثمان نے ہنس کر کہا اے پری یہ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ جانوروں پر رحم کھائے اور ان کی

مدد کریں بری خوش ہو کر بولی تم بہت آچھے انسان ہو میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں عثمان نے کہا میں

روم کی شہزادی افشین کو جن کی قید سے آزاد کرانے کو کاف جا رہا ہوں اگر تم مجھے کوکاف تک پہنچنے کا راستہ

بتا سکو تو تمہاری بڑی مہربانی ہوگی پر ی یہ سن کر سوچ میں پڑ گئی پھر کہنے لگی یہ تم نے بڑے مشکل کام کا بیڑا

اٹھایا ہے لیکن بہادر لوگوں کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوا کرتا یہ لو یہ آم رکھ لو اور اس جنگل کے

جنوبی حصے میں موجود برکت کی پرانے درخت کے قریب پہنچ کر آم کو چیر دینا اس درخت کے نیچے بونوں

کی ایک بستی ہے وہ آم کھانے کے بے حد شوقین ہیں وہ تم سے عام مانگیں گے مگر تم ہرگز نہ دینا اور کہنا اگر

بونا بادشاہ میرے ساتھ کوکاف تک چلے تو ہی میں آم دوں گا آج کل آموں کا موسم نہیں ہے مجھے یقین

ہے کہ بونا بادشاہ تمہاری بات مان لے گا اس کے بعد تمہیں کیا کرنا ہے یہ بونا بادشاہی بتائے گا عثمان نے

بری کا شکریہ ادا کیا تو اس نے اپنا ایک بار توڑ کر تاجر کو دیا اور کہا جب بھی تم کسی مشکل میں پھنس جاؤ اس پر

کو بالوں میں لگانا میں تمہاری مدد کو پہنچ جاؤں گی اچھا اللہ حافظ پری چلی گئی ۔

 تاجر عثمان اُٹھا اور گھوڑے پر بیٹھ کر برکت کے درخت کی طرف چل دیا وہاں پہنچ کر اس نے ہدایت کے

مطابق آم نکالا اور چیرا تو ہر طرف آم کی خوشبو پھیل گئی یہ خوشبو بونوں کی بستی میں پہنچی تو سارے بونے

بے قرار ہو گئے اور بونے بادشاہ کے ہمراہ باہر نکل آئے بونے بادشاہ نے لگچائی ہوئی نظروں سے آم کی

طرف دیکھتے ہوئے کہا اے آدم زات تم کہاں سے یہ عام لے آئے ہمیں بھی کھانے کے لیے آم دو عثمان

غصے سے بولا چلو بھاگو یہاں سے میں تو تمہیں آم کا چھلکا بھی نہیں دوں گا ہاں اگر ایک شرط  مان لو تو سارا کا

سارا عام تمہیں دے سکتا ہوں بونے بادشاہ نے جلدی سے کہا چلو شرط بتاؤ عثمان کہنے لگا تمہیں میرے

ساتھ کوکاف تک جانا ہوگا اگر راضی ہو تو یہ عام تمہارا ہے بونے نے جواب دیا مجھے تو کوکاف تک جانے کا

راستے کا علم نہیں ہاں یہاں سے چار کو اس دور ایک خون خوار جادو گرنی رہتی ہے اسے پتہ ہے مگر وہ تو

انسانوں کا خون پی جاتی ہے اور گوشت بھون کر ہڑپ کر جاتی ہے ہڈیاں تک چبا کر کھا جاتی ہے۔

 لیکن ایک بات ہے وہ مارنے سے پہلے ہر انسان سے تین سوال پوچھتی ہے اور جو صحیح جواب دیتے اسے

چھوڑ دیتی ہے مگر آج تک کوئی انسان اس کے سوالوں کے درست جواب نہیں دے سکا صرف میں ان

سوالوں کے جواب جانتا ہوں پھر تو تمہیں میرے ساتھ ضرور جانا ہوگا ورنہ آم نہیں ملے گا بونا بادشاہ مان

گیا عثمان نے آم بونوں کے حوالے کر دیا ساری بستی عام پر ٹوٹ پڑی اور اُسے چٹ کر گئی ۔

اب عثمان نے بونے بادشاہ کو جو سائز میں انسانی انگلی کے برابر تھا اٹھا کر جیب میں ڈالا اور اگے چل پڑا جب

وہ جادوگرنی کے علاقے میں پہنچے تو جادوگرنی تاجر کو دیکھ کر خوش ہو گئی اور شیطانی کہکا لگا کر بولی واہ واہ آج

خوب تگڑا شکار آ یا ہے اے ادم زاد میں تمہیں پانی میں اُبال کر تمہاری یخنی پی جاؤں گی عثمان تو کامپ اُٹھا

جادوگرنی کی شکل تھی بھی بڑی بھیانک دو لال لال سنگ باہر کو نکلی ہوئی آنکھیں پیلے زردان اور کالا سیاہ

رنگ اس کی گود میں ایک مینڈک بیٹھا خودک رہا تھا جس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جادو گرمی اسے چوہے

کھلا رہی تھی جادوگرنی کی بات سن کر عثمان ہمت کر کے بولا اے جادو کرنی تم نے تو اعلان کر رکھا ہے کہ

جو تمہارے تین سوالوں کا جواب دے دے گا تم اسے چھوڑ دو گی جادوگرنی نے یہ سن کر چیخ ماری اور فرش

سے اُچھل کر چلائی تم میرے سوالوں کے جواب دو گے ہاہا آج تک کوئی انسان میرے سوالوں کے جواب

درست نہیں دے سکا جادوگرنی کا کہکا بڑا بھیانک تھا اس کا محل لرزنے لگا تھا مینڈک اس کی گود سے

اچھل کر پرے جا گرا۔

 جادوگرنی نے پہلا سوال کیا بتاؤ

Malik e Room ka tajir

دس من وزنی پتھر کو کس طرح پھونکے مار کر اڑایا جا سکتا ہے عثمان نے کان کھجانے کے بہانے سر جیب کی

طرف جھکایا تو بونے بادشاہ نے اس کے کان میں کہا جناب پتھر کو پیس کر پاؤڈر بنا کر پھونکوں میں اڑایا جا

سکتا ہے

 عثمان نے یہی جواب دہرایا جادوگر نے اچھل کر چنگاڑی لو اب دوسرے سوال کا درست جواب دے کر تو

دکھاؤ بتاؤ وہ کون سی دولت ہے جسے کوئی نہیں چرا سکتا عثمان نے پھر سر جیب کی طرف جھکایا تو بونے بادشاہ

نے کہا جناب وہ دولت علم ہے جسے چرانا ناممکن ہے اپنے دوسرے سوال کا جواب بھی درست پا کر جادو

کرنی گھبرائی اسے شکار ہاتھ سے نکلتا نظر آنے لگا۔

 کیونکہ اگر عثمان تیسرے سوال کا بھی درست جواب دینے میں کامیاب ہو جاتا تو جادو گرمی کو اسے چھوڑنا

پڑنا تھا اس نے کہا اے انسان میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ کون سا جرم ہے جسے کرتے ہوئے اگر انسان پکڑا

جائے تو سزا ملتی ہے لیکن اگر کر لے تو سزا نہیں دی جاتی عثمان یہ سن کر چکرا گیا مگر بونے بادشاہ نے اسے

جواب بتایا عثمان نے کہا وہ جرم خودکشی ہے ۔

جاری ہے

Malik e Room ka tajir aur shehzadi episode 2

Share and Enjoy !

Shares

Leave a Comment