Log kya kahenge Episode no 1

Log kya kahenge Episode no 1

لوگ کیا کہیں گے قسط نمبر 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم

میری ساس ایک پیرنی تھی اور روز اس کے آستانے پر ہزاروں لڑکیاں تھیں اور ان سب کی سب تین گھنٹے کے اندر اندر

شادی ہو جاتی لیکن میں دیکھتی تھی کہ روز ایک لڑکی منہ چھپا کر آتی ہے اور ایک کونے میں بیٹھ جاتی اور آخر تک بیٹھی

رہتی اور کسی سے بات بھی نہیں کرتی اور جاتے وقت ساس کا ہاتھ چومتی اور باہر نکل جاتی ۔روز یہی ہوتا میں حیران تھی

کہ ساس کا دم اس پر  کیوں نہیں چلتا تھا اور پھر ایک دن میں نے ساس کو کام سے اندر بھیج دیا اور اس کا بھیس بنا کر خود اس

کی جگہ پر بیٹھ گئی پھر سب لڑکیاں جانے لگی لیکن وہ لڑکی روز کی طرح رکی رہی اور جب اس نے روز کی طرح میرا ہاتھ

چومہ تو مجھ پر قیامت ٹوٹ گئی کیونکہ وہ تو۔۔۔

میرا نام اقصی عبدالرحیم ہے میرا تعلق نارووال سے ہے اللہ جی نے یہ رشتے بہت خوبصورت بنائے ہیں نہ ان کے بغیر

گزارا ہے اور نہ ہی ان کو چھوڑ کر انسان جی سکتا ہے زندگی بڑے بڑے امتحان لیتی ہے اور کبھی ہم غلط فہمیوں میں مبتلا

ہوکر اپنے رشتوں سے ہمیشہ کے لئے دور ہو جاتے ہیں کبھی ایک بار بھی ہم اپنے خون کے رشتے سے یہ پوچھنے کی

ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ آیا جو کسی نے کہا کیا وہ سچ ہے ہم بس اپنی جھوٹی انا اورلوگ کیا کہیں گے ساری عمراسی

کے گرد گھومتے رہتے ہیں کچھ ایسی ہی کہانی میری بھی ہے جب چھوٹی تھی میرے ابا کی موت ہوگئی اور دادی نے ہمیں

یہی رکھ لیا تھا میرے ننھیال والے یعنی میرے نانا ابو اور نانی امی چاہتے تھے کہ ہم ان کے پاس آجائے پر دادی نے کہا

کہ میرے جیتے جی ایسا نہیں ہوسکتا میں اپنے بیٹے کی نشانی کو ہرگز اپنی آنکھوں سے دور نہیں کروں گی اگر آپ بیٹی کو

لے جانا چاہتے ہیں تو آپ لے جائیں پر میری پوتی میرے ساتھ میرے پاس رہے گی اور میری مما کی تو مجھ میں جان تھی

نہ ہی  اپنے شوہر کاگھر چھوڑنا  چاہتی تھی اور نہ ہی دوسری شادی کرنا چاہتی تھی دادی نے بہت  کہا کہ بہو دوسری شادی

تمہارا حق ہے پر مما نے کہا کہ میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتی میرے پاس میرے شوہر کی یادیں موجود ہیں اور

میرے لئے میری بیٹی کافی ہے لیکن ہمارا وہاں رہنا چچی اور پھپھو دونوں کو پسند نہیں تھا دادی پہلے سے بھی زیادہ ہمارا

خیال رکھتی امی دادی کی لاڈلی بہو تھی  ہر کام میری مما سے پوچھ کر کیا جاتا مجھے پودے لگانے کا بہت شوق تھا اور یہ شوق

مجھے دادی سے ملا تھا وہ بھی بہت پودے  اور سبزیاں لگاتی تھیں اور پورے گھر میں ان کے ہاتھ کے پودے لگے تھے میں

نے صحن میں کیاری میں پودے لگائے جو بالآخر جھانکنے لگے تھے انہیں دیکھ کر میں نے مارے خوشی کے اتنی زور سے

نعرہ بلند کیا کہ اندر سےچچی اور پھوپھو کی بیٹی سدرہ وہ دونوں باہر آ گئی کیا ہوا ہے ؟ سدرہ کچھ  زیادہ ہی بوکھلا گئی تھی اس

نے کہا یہ تو کمال ہی ہو گیا ورنہ تم جو پودے لگاتی تھیں ان میں تو صرف گھاس پُھوس ہی ہوتی دیکھی ہے سدرہ یہ کہہ کر

اندر چلی گئی۔مارے خفت کے میرا چہرہ لال ہو گیا۔ بڑی محنت سے میں نے اتنے دن لگا کر کیاریاں بنائی تھی جب سے

کیاریوں میں بیچ ڈالے تھے تب سے مجھے تو نیند نہیں آ رہی تھی۔ بہت شدت سے پودوں کے نکلنے کا انتظار تھا میں نے

گزشتہ سال پودے لگانے کا منصوبہ بنایا تھا اس طرح کے منصوبے میں پہلے بھی آتی رہتی تھی مجھے اب بھی یاد ہے

 جب میں نے اپنے پسندیدہ پھولوں کےپودے لگائے تھے مگر وہاں کلی اور گلاب کی جگہ گھاس اُگ آئی  تھی۔ اس دفعہ

میں نے دوبارہ سے پورے ذوق و شوق سے دعائیں مانگ مانگ کر سبزیوں کے بیچ ڈالے اور انتظار کے بعد آج کیاری  

میں ہریالی نظر آنے لگی تھی جسے دیکھتے ہی میں خوشی سے اچھل رہی تھی چاچو کا بیٹا ذمیر بھی شور سن کر باہر نکل آیا

سبزیوں کی کیاریاں  دیکھ کر کہا اماں کم تھی جو اقصی بنت عبد الرحیم بھی میدان میں آگئی ہیں کہاں پیدا ہو گیا ہوں جہاں

سبزیاں  کھلاکھلا کر  میری صحت خراب کر دی ہے ۔ جمعہ کو آلو گوشت، ہفتہ کو کریلے، اتوار کو بینگن، سوموار کو بھندی ،

اور تو اور ایک مخصوص دن کو سترنگی سبزیاں پکائی  جاتی ہیں اب تو خواب میں بھی کردو بینگن ٹینڈے نظر آنے لگے ہیں

وہ کرانے والے انداز میں بولا تو مجھ سے برداشت نہ ہوا میں نے کہا تم جو آئے دن الو کے فرنچ فرائز تو کبھی رول بنوا بنوا

کرکھاتے  ہو وہ بھی تمہاری اماں نے بہت محنت سے لگائے ہیں کبھی خریدنے پر جائے تو عقل ٹھکانے آ جائے موصوف

کی پتہ ہے پیاز کا بھاؤ کہاں تک پہنچ کیا ہے تین سو اسی روپے کلو گھر کی تازہ سبزیاں بازار کی بازی سبزیوں سے کہیں زیادہ

بہتر ہیں۔

ذمیر میری باتوں سے جان چھڑانے کے لیے وہاں سے کھسک گیا چچی اپنے بیٹے کی بزدلی دیکھ کر پاوں ٹنچ کر رہ گئی وہ مجھ

سے شروع سے ہی کھینچی رہتی تھی کچھ کرو یا نہ کرو ان کی نظر میں میں نالائق اورپھوہڑ تھی میں اماں سے کہتے ہیں کہ

چچی کیوں میرے پیچھے پڑی رہتی ہے  جب سے دادی اس دنیا سے گئی تھی میری چچی کا رو یہ کچھ زیادہ ہی خراب تھا پورے

خاندان میں اپنے پاس سے باتیں بنا کر بتاتی کہ اقصیٰ ایسی ہے ویسی ہے اماں سے کچھ کہتی تو وہ مجھے سمجھا تی کہ تمھاری چچی

کی عادت ہے تم دل پر مت لیا کرو اپنی پڑھائی پے دھیان دومجھے کال جانے کی پرمیشن نہیں تھی اس لیے گھر پہ ہیں

پرائیویٹ تیاری کرتی اماں نے کہا کہ مجھے  ٹیوٹر  رکھ دے دی گئی تاکہ تم کچھ تو دھیان دو پڑھائی پر اور ٹیوٹر بھی

لوگ کیا کہیں گے قسط نمبر 1

 میرےایگزام کے  دو ماہ پہلے بلایا گیا ان کا نام شیراز احمد تھا دیکھنے میں تو اچھے خاصے تھے شریف سے جب بھی آتے تو نظر

جھکائے بڑھاتے مجھے  پڑھائی میں خاص دلچسپی نہیں تھی ایف۔اے جیسے تیسے کر لیا مگر بی ۔اے میں کامیاب ہونا مجھے

محال لگنے لگا تھا اور آئے دن سر کو تنگ کر تی تاکہ وہ خود پڑھنے سے انکار کردیں مگر شیراز بھی اپنے نام کا ایک تھا شاید اس

نے سوچ لیا تھا کہ مجھ جیسے نالائق  کادماغ ٹھیک کرکے رہیں گے اماں کو بھی میری نالائقی پر غصہ آتا تھا اماں خود اپنے

زمانے میں دوران تعلیم ایک ہونہار چکی تھی مگر اماں کہتی تم پتہ نہیں کس پر چلی گئی ہو جو میری ناک کٹوانے پر تلی ہوئی

ہو جس طرح اماں  مجھ پر اپنی دولت ضائع کر رہی تھی اس سے اکثر فکر مند  رہنے لگی تھی مجھے اب ا ماں پریشانی نظر آتی

تھی ایک دن مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں اقصیٰ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاؤ کچھ بن جاؤں میں جو اب تک

یہاں صبر سے سب کچھ برداشت کر رہی ہو تو وہ صرف تمہارے لیے مگر میں سوچتی ہوں کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تمھارا

کیا بنے گا اماں کی آنکھوں میں آنسو تھے مجھ سے دیکھا نہ گیا اور اماں کے گلے لگ کر میں بھی رودی  چاچو اور چچی تو پہلے ہی

ہمیں برداشت نہیں کرتے تھے

ایک دن جب  چچی اما ں کو مہمانوں کے سامنے باتیں سنا رہی تھی اور امّاں چپ چاپ سب کچھ برداشت کر رہی تھی اس

دن میں نے سوچ لیا تھا کہ اب مجھے کچھ کرنا ہےاگے بڑھنا ہے  اور اب میں اپنی تعلیم کو سیریس لے رہی تھی میرا پرانا

چچی سے برداشت نہ ہوا اور انہوں نے سازشیں کرنی شروع کردی کبھی میری کتابیں چھپا دیتی کبھی سرشیراز کے آنے

پر ان کو کہتی کہ اقصیٰ تو کہیں گی ہوئی ہے وہ چپ چاپ واپس چلے جاتے۔

چچی کا بیٹا لندن سے واپس آیا تھا میں ضمیر کو ایک اچھا انسان سمجھتی تھی ایک دن مجھے اپنے ساتھ باہر لے گیا کہ چلو تمہیں

اپنا بزنس سیٹ کرنے پر ایک اچھی سی ٹریٹ دو اور میں تمہارے لئے باہر سے کچھ لا نہیں اس لیے چلو میرے ساتھ

میرے لاکھ منع کرنے پر بھی وہ نہ مانا تو مجھے ساتھ جانا پڑا اس دن اس کی اصلیت سامنے آئی جب وہ رات کو میرے

کمرے میں آیا اور کہنے لگا میں تمہیں پسند کرتا ہوں میں نے کہا سمیر بھائی آپ میرے لئے میرے بھائی کے جیسے ہے

آپ  نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا وہ اپنی حد سے بڑھنے لگا تھا میں نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا لیکن وہ جانور بن چکا تھا میں

چلانے لگی میری ماں رات کے اس وقت پتہ نہیں کیسے  آگئی شاید اللہ نے اپنا کرم کیا تھا میری عزت رکھ لی تھیاماں  اس کو

تھپڑ مار رہی تھی جب اس نےاماں  کو دھکا دیا اور میری ا ماں دروازے سے ٹکرا کر سیڑھیوں سے نیچے گرتی چلی گئی ان کا

بہت خون بہہ رہا تھا  فوراََاسپتال لے کر گئے لیکن میری ماں اس دنیا سے جا چکی تھی میرے اوپر قیامت پر قیامت ٹوٹ

رہی تھی جیسے ہی اماں کا جنازہ اٹھا میری چچی نے مجھے بازو سے پکڑا اور کہا بدکردار نکل جاؤ ہمارے گھر سے مجھ پر یہ الزام

لگا دیا گیا کہ میں  اس کے بیٹے کو بہکارہی تھی اور تبھی  میں نے اپنی ماں کو دھکا دیا تھاچچی  مجھے دھکے دینے لگی سبھی لوگ دیکھ

رہے تھے ایک پل میں میری عزت خاک میں مل چکی تھی میرے پاس کچھ بچا تھا ۔

لوگ کیا کہیں گے قسط نمبر 1

میرے ساتھ کیا ہو رہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا مجھے نکال کر گیٹ بند کر دیا اور میں وہیں دروازے پر بیٹھی  چیختی چلتی

رہی جب مجھے  شیراز جو کہ مجھے ٹیوشن  دینے آتا تھا اس نے دیکھا ساری بات سنی اور  میرے گھر والوں سے بات کی پر

میری چچی نے کہا کہ اتنے سگے بنتے ہو تو جاکر خود نکاح کر لو   اور شیراز مجھے گھر لے آیا تھا اس کی ماں بہت اچھی تھی انہوں

نے ہمارا نکاح کروا دیا میں یہ نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے کہا کہ میں سچ میں تم سے شادی کرنا چاہتا تھا اس حوالے

سے تمہاری والدہ سے بات بھی کی تھی لیکن میری بہن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس میں اس کی موت ہوگئی اور جب

تمہارے گھر آیا تو تمہاری والدہ بھی اس دنیا سے جا چکی تھی میں نے اپنی زندگی میں سنا تھا بڑے کہتے تھے کہ اپنا مارکر

چھاؤں میں پھینکتا ہے لیکن اب وہ دور آ گیا ہے کہ اپنے آپ پر سے چھاؤں کھینچ لیتے ہیں اور آپ کو چلچلاتی دھوپ کی زد

میں ڈال دیتے ہیں آجکل کے اپنے اپنے نہیں ہوتے میرے اپنوں نے جو میرے ساتھ کیا تھا میں نے اپنا معاملہ اوپر

والے کے سپرد کر دیا تھا۔ میری ساس پیرنی تھی وہ عام پیرنیوں جیسی نہیں تھی جو پیسے لیتے ہیں یا تعویذ دھاگہ کرتی

 میری ساس بس دعا کرتی تھی اور روز ان کے آستانے پر بہت سی لڑکیاں تھی لیکن میں حیران تھی کہ کیسے تین گھنٹوں

کے اندر لڑکیوں کی شادی  ہوجاتی ہے لیکن وہاں ایک لڑکی نقاب میں منہ چھپائے ہوئے تھی اور ایک طرف بیٹھ جاتی

اور وہ لڑکی روز آتی  مجھے حیرت ہوتی کہ وہ میری ساس کے ہاتھ کا بوسہ لیتی اور کچھ کہے بنا چلے جاتی مجھے تجسس ہوا میں

جاننا چاہتی تھی کہ اس کے پیچھے کون ہے ایک دن میں نے ساس کو کسی کام سے باہر بھیجا اور خود چادر اوڑھ کر ساس  کی

جگہ بیٹھ گئی جب وہ لڑکی آئی اور جب میرے ہاتھ کو بوسہ دینے لگی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چہرے سے نقاب ہٹایا تو

مجھ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔

کیونکہ نقاب میں منہ چھپائے جو میرے سامنے تھی وہ تو میری نند تھی جو تین سال پہلے مر چکی تھی اس کا اتنی بری

طرح ایکسیڈنٹ ہوا تھا کہ کوئی  پہچان نہیں سکتا تھا وہ اُس ایکسیڈنٹ میں آگ لگنے سے جل گئی تھی میری نند میرے

آگے ہاتھ جوڑے کہنے لگی بھابھی آپ کو اپنے ہونے والے بچے کا واسطہ کسی کو میرا مت بتانا ورنہ سب کی عزت خاک

میں مل جائے گی پھر میری نیند نے  اپنے بارے میں بتایا کہ وہ لاش کسی اور کی تھی کیونکہ آپ ہمارے خاندان کے

بارے میں کچھ نہیں جانتی میری نیند نے کہا بھابھی جان ہمارے خاندان میں رواج ہے کہ لڑکی کی شادی خاندان سے

باہر نہیں کی جاتی بلکہ خاندان میں ہی  اس سے چھوٹے لڑکے سے ،بوڑھے شخص سے کردی جاتی ہے اور باہر اپنی بیٹی

نہیں دیتے اور اگر کوئی لڑکی بھاگ جائے تو یہ لوگ اس کو مار دیتے ہیں مگر قبول نہیں کرتے محبت گناہ ہے ہمارے

خاندان میں پر محبت کبھی کبھی  سرکش بنا دیتی ہے باغی  کردیتی ہے مجھے بھی محبت ہو گئی تھی اور میں نے شادی کرلی جس

لڑکے سے میں نے شادی کی وہ میرے ابا کا خاص آدمی تھا اس کا نام زبیر ملک تھا میری ملاقات اس سے تب ہوئی جب

وہ آستانے پر کسی کام سے آیا اور تب سے آہستہ آہستہ ہماری بات چیت ہونے لگی اور ہم ایک دوسرے سے محبت کرنے

لگے اس بات کی خبر جب بابا تک پہنچی تو انہوں نے زبیر کو پرانی حویلی بلایا اور اس کے بعد مجھے زبیر کی کوئی خبر نہیں ملی

ہماری حویلی میں ایک ملازمہ تھی میں نے کسی طرح سے اس کو بھیج کے زبیر کا پتہ کروایا اس نے کہا کہ زبیر کو تو پرانی

حویلی کے قید خانے میں بند کر دیا گیا ہے۔

 

لوگ کیا کہیں گے قسط نمبر 2

 

Share and Enjoy !

Shares

Leave a Comment